بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
تقلید کیوں ضروری ہے؟
“کسی ایک امام کی تقلید کیوں ضروری ہے؟ ہم کسی فرقے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ہم نے فرقوں کو پیروں تلے کچل دیا ہے اور ہم صرف مسلمان ہیں۔”
عموماً فرقوں پر بات کرنے سے جتنا ہو پاتا ہے احتراز برتتی ہوں، مگر جب اپنے ارد گرد بہت زیادہ یہ مسئلہ یا فتنہ سر اٹھا رہا ہو تو اس پر ایک بار بات کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایک اہم دینی فریضہ ہے۔
ہمارے علماء کرام اس بات کو ایک مثال سے سمجھاتے ہیں کہ ایک باوضو شخص کا خون نکل آیا۔ کسی نے اسے کہا کہ تمہارا خون نکل آیا ہے لہٰذا تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اس مسئلے میں میں امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کو پسند کرتا ہوں کہ خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا میرا وضو باقی ہے۔
پھر وہی شخص اپنی بیوی کے پاس گیا۔ کسی نے اسے کہا کہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس مسئلے میں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی پیروی کروں گا کہ وضو نہیں ٹوٹا۔
اب جب اس نے نماز پڑھی تو دونوں ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک اس کی نماز درست نہ ہوئی۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ہر مسئلے میں اپنی پسند کے مطابق مختلف ائمہ کے اقوال اختیار کرتا رہے تو وہ دراصل ایک نیا طریقہ ایجاد کر لیتا ہے جو کسی امام کے نزدیک بھی معتبر نہیں رہتا۔
لہٰذا جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم جس امام کا جو فتویٰ پسند آئے گا اسی پر عمل کریں گے تو حقیقت میں وہ اپنے نفس کی پسند کے مطابق دین اختیار کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ اس طرح فرقوں کو ختم کیا جا رہا ہے تو یہ درست نہیں، بلکہ اس طرح ایک نیا فرقہ وجود میں آ جاتا ہے جو صرف انسان کی خواہشات پر مبنی ہوتا ہے۔

