حاملہ عورت کی تکلیف | بقلم حرا امجد بنتِ اخلاق

حاملہ عورت کی تکلیف | بقلم حرا امجد بنتِ اخلاق

 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

حاملہ عورت کی تکلیف: قرآن کی روشنی میں ایک سنجیدہ پیغام

بقلم حرا امجد بنت اخلاق

حاملہ عورت کی تکلیف

 

ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی کہ اسے اس کی ماں نے تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا۔

 

سورۃ الاحقاف – آیت 15

 

 

 

 

حاملہ عورت کی تکلیف ایسی تکلیف ہے جس کا ذکر القرآن میں بھی موجود ہے۔

 

حاملہ عورت مجاہدہ ہے، اگر وہ اس سفر کے اختتام پر زندگی ہار دے تو شہادت کا رتبہ پاتی ہے۔

 

پس تم پر لازم ہے کہ حاملہ عورت کا خیال رکھو کہ وہ ایسی تکلیف میں ہے جسے واقعی تکلیف کہا گیا ہے۔

 

خدارا اس بحث کو چھوڑو کہ ہر عورت اس مرحلے سے گزرتی ہے۔ تم انوکھی نہیں ہو۔

 

کوئی بھی عورت یہ کبھی نہیں بھولتی کہ دوران حمل کس نے اس کو سنبھالا، اس کی پرواہ کی، اس کا خیال رکھا اور کس نے اسے بوجھ سمجھا، اس کی تکلیف سے تنگ آیا یا اسے مزید پریشان کیا۔

 

حمل کی تکلیف سے بآسانی گزرا جا سکتا ہے اگر عورت کو خوش رکھا جائے۔

 

وگرنہ وہ جسمانی تکلیف سے نہیں تھکتی مگر جذباتی توڑ پھوڑ اسے بکھیر کر رکھ دیتی ہے۔

 

شوہر کو سمجھنا چاہیے 

 

شوہر کو سمجھنا چاہیے کہ یہ وقت عورت سے امیدیں باندھنے کا نہیں بلکہ اس کی امیدوں پر پورا اترنے کا ہے۔ 

 

آپ کے چند ہمدردانہ جملے اس کا پورا دن اچھا کر سکتے ہیں، اس کی تکلیف کو کم کر سکتے ہیں، اس کی قوتِ برداشت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

 

اسی طرح آپ کے چند تلخ جملے، چند ۔۔۔

 

مکمل تحریر کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

https://jihaadbilqalam.blogspot.com/2026/03/hamla-aurat-ki-takleef.html

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *